جمعہ, اکتوبر 20, 2017

پیرس ، شانزے لیزے اور قطری شہزادے

پیرس   اورلی  اترنے کا فیصلہ  میرا اپنا تھا۔ تین برس قبل پیرس میں ہونے والی فارماسیوٹیکل ایکسپو CPhI میں شرکت کےلئے ہم تینوں کو جانا تھا، باقی کے دونوں  اطالوی کولیگ الایطالیہ ائیرلانز پر چارلس دے گال پر اتر رہے تھے۔ جب کے میرے دماغ میں حسب عادت رائن ائر گھسی ہوئی تھی۔ جسکے ہم عادی ہیں۔ کم قیمت اور وقت کی پابند۔ باوجود کہ  کمپنی نے ادائیگی کرنی تھی ۔ 
مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ میں نے کیا  کرلیا ہے۔ ادھر چارلس دی گال سے 2 اسٹیشن   پر ایکسپو تھا اور باقیوں کا ہوٹل بھی اگلے دو  اسٹاپ پر، جب کہ مجھے شہر کے  ایک طرف اتر کر دوسری طرف جانا تھا ہوٹل کےلئے جبکہ ایکسپو اسکے بعد دوسری طرف تھا۔ گویا شہر کے تین کونے ماپنے تھے، ا"چھا وائی جو کرے " کہہ کر ٹرین میں سوار ہوگیا  لا فرتینیلے اتر اور ادھر سے  آر ای آر پکڑی گار دے آوستریلیاس کےلئے پھر وہاں سے بوبینی  پابلو پیکاسو پہنچا۔ کوئی  27 کلومیٹر کا سفر تھا۔ گوگل میپ پر  حساب میں لگا چکا تھا۔ ٹکیں ساتھ ساتھ لیتا  گیا  اور بغیر کسی کھیچل کے پہنچ گیا اپنے ہوٹل  جو اسٹیشن کے پاس ہی تھا۔ بس 10 منٹ پیدل اور ٹیکسی کے پانچ منٹ۔ کسی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑی، کچھ ویسے بھی ٹریولنگ کا  عادی ہوں۔ کچھ ادھر ہر طرح کی نشاندہی  موجود تھی۔ بس آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ میں نے جانا کہاں پر ہے اور کونسی ٹرانسپورٹ پکڑنی ہے۔ 


پیرس  ایک بڑا اور عالمی شہر ہے، جس میں فرینچ کم اور دوسرے ملکوں سے آنے والے زیادہ ہیں۔ کالے، عربی ، انڈینز، فلپینو، چینی ہر طرح کے لوگ  فرینچ بولتے ہوئے اپنے اپنے چکروں میں رواں دواں تھے۔ 
بوبینی شاید بنگالیوں کا گڑھ ہے۔ لگ رہا تھا کہ سارے مجھے ہی گھور رہے ہیں۔ شہر پرانا سا تھابڑی بڑی عمارات اور انکے نیچے کی طرف  کی کالی ہوئی پڑی دیواریں۔ 
ہوٹل کی ریسپشن پر ایک لڑکی تھی بہت منہ لگنی سی ، جو مجھے مراکشی لگی، عادتاُ اس سے پوچھ بیٹھا ، مروکن ہو، جواب ملا اگر ناں ہوں تو؟؟ ہیں ،اب میں  ہڑبڑا گیا۔ ارے نہیں میں نے تو بس پوچھا ہی ہے؟؟ اہو اچھا۔ میں فرینچ ہوں۔ پر میرے بزرگ الجیریا کے تھے۔ دھت تیرے کی۔ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ نہیں میں لاہور کا نہیں بلکہ جالندھر کا ہوں۔ ہلا چلو، سانوں کی۔
ہوٹل میں بیگ  رکھا، کپڑے اور شیو کا سامان رکھا اور نیچے اتر ا اور   فون  پر پھر سے شانزے لیزے ایوینیو  پر آرک دے ٹریومپف کا نقشہ دیکھا، کیمرہ اٹھایا،  ہوٹل سے نکلا اور دو میٹروز پکڑتا ہوا  2 بجے ادھر جاپہنچا ۔
ادھر اس دن گھوڑوں کی ریس کا فارمولہ ون  تھا۔ قطر اسکا آفیشل سپانسر تھا۔ شارہراہ کے دونوں طرف قطر کے جھنڈے  اور ریس کورس کے علم لہرا رہے تھے۔  کالے برقعے پہنے ہوئے  چیٹی سفید قطرنیاں اور انکے ساتھ کالے کالے قطری ، وللہ  وللہ ، ھنا، طعال کے نعرے ماررہے تھے۔ گویا پیرس اغوا ہوچکا تھا۔  یا پھر میں قطر پہنچ چکا تھا۔ اور قطری شہزادے ، شہزادیاں میرے اردگرد ہی تھے۔ شام کی روشنیوں  میں ویسے ہی  بندہ اکیلا پن زیادہ محسوس کرتا ہے

میں اپنے ساتھ کی قطری  شہزادی کے بارے سوچتا  ہوا ،  جو کہیں بھی نہ تھی ادھر ادھر کی فوٹوز کھینچتا رہا۔  فوٹو کھینچتا رہا۔ فیراری، اور ہوملیس کتے کے ساتھ اسی سڑک پر تھے، لوئیس ویٹون کے جوتے اور پانچ یورو لیکر رکشہ میں شانزےلیزے ایوینیو کی سیرکروانے والا، تیونسی نما فرینچ۔ ، دیکھتا رہا اور   بس پولے پولےفوٹو بناتا رہا۔  اور انتظار کرتا رہا باقی دونوں ساتھیوں کا جنکو شام گئے آنا تھا۔ اکتوبر کی شام صرف ایک کوٹ میں اچھی بھلی ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔
مجھے جو چیز پیرس کی سب سے اچھی لگی وہ اسکی ٹرانسپورٹ کا نظام تھا جہاں ریل، آری آی آر، میٹرو اور بس ایک ساتھ بندے کو اسکی منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ میٹرو اسکی کوئی ڈیڑھ سو برس پرانی ہے، پر چل رہی، ٹرینیں پرانی ضورر ہیں، پر کوئی دھماچوکڑی نہیں اور یہی وہ چیز ہے جو پیرس کو پیرس بناتی ہے۔ اتنے بڑے شہر میں اگر آپ کسی کو کہہ دیں کہ 30 منٹ  بعد ملیں گے تو  ایسا ہوتا ہے۔ ابھی لاہور، راولپنڈی، ملتان ،  پشاور میں ماس ٹرانسپوٹیشن  کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ چلو ایک صدی بعد ہی سہی پر کچھ کام چلا تو،  لاہور کی رونقیں ہوں یا پشاور کی ، یا پھر پنڈی میں موتی محل سے راجہ بازار پیدل جانا ہو، میرے لئے ہمیشہ خوابناک رہا۔ پر پاکستان  کے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ پر آپ نہ کہیں وقت پر پہنچ سکتے تھے اور نہ ہی کسی کے پہنچنے کی توقع کرسکتے تھے۔ 
جبکہ میں  پورے تین دن اپنے ہوٹل سے دو بسیں بدل کر اور ایک ایک ٹرین پکڑ کر  کامپو دے ناتسیون پہنچ ہی جاتا تھا۔ نہ کوئی بھولنے کا رولا اور نہ دیر سے پہنچے کا خوف۔ 
پیر کو پھر فلائیٹ ہے فرینکفرٹ کی ۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, مئی 02, 2017

ہم اور ہماری دنیا : بندہ مزدور اور رومن غلام

ہم اور ہماری دنیا : بندہ مزدور اور رومن غلام: میں اپنے اطالوی دوستوں سے یہ سوال کرتا ہوں: تم نے جو رومن تاریخ پڑھی ہے، بلکہ اسکے ماہر ہو،     رومنز کا زمانہ غلامی کے نظام کا بدترین ز...

مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 01, 2017

بندہ مزدور اور رومن غلام

میں اپنے اطالوی دوستوں سے یہ سوال کرتا ہوں:
تم نے جو رومن تاریخ پڑھی ہے، بلکہ اسکے ماہر ہو،     رومنز کا زمانہ غلامی کے نظام کا بدترین زمانہ سمجھا جاتا تھا، رومنز کے زمانے میں غلاموں کے کیا حقوق ہوتے تھے؟؟
جواب آتا ہے " ہیں؟؟ غلاموں کے کیا حقوق ہوئے؟؟  کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے غلاموں کے۔
ہیں؟؟ ایسا کیسے ہوا۔ کیا غلاموں کو  کھانا نہیں دیا جاتا تھا؟؟   حیرت سے، " ہاں دیا جاتا تھا"۔
کیا غلاموں کو سونے کےلئے جگہ نہیں دی جاتی تھی؟ ایک چھت ایک بستر، کوالٹی کچھ بھی ہو، چاہے "پیال" ہی ہو۔
جواب آتا  پھر حیرت سے " ہاں دیا جاتا تھا"۔
اچھا ، تو کیا انکو  لباس نہیں دیا جاتا تھا، تن ڈھانکنے کو؟؟  چاہے ایک لنگوٹ ہی ہو؟
پھر حیرت بھری تائید " ہاں  وہ بھی دیا جاتا ہے" ۔ اور ساتھ ہی اس موضوع پر "دماغی ریفلیکشن شروع ہوجاتا ہے،  تبصرہ آجاتا ہے " پر یہ سب تو انکو زندہ رکھنے کےلئے ضروری ہے، ورنہ وہ تو مر جائیں"۔
بلکل اور اگر غلام مرجاویں گے تو پھر کام کون کرے گا۔ مالکوں نے خود تو کرنا نہیں۔  اب ترتیب یہ ہوتی تھی کہ غلام کو صرف اتنا ہی دیا جائے  جو اسکو زندہ رہنے کو کافی ہے۔ اس سے زیادہ  "قطرہ " بھی نہیں۔  اسکے ساتھ ساتھ۔ غلام کا کام تھا کہ  وہ مالک کے ہر حکم کو بجالائے اور اسکی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری و اوقات کار  کا خیا ل رکھے۔
یہاں تک ٹھیک ہے۔
اب ایک تجزیہ کیجئے ہمارے آج کے مزدور کا، یورپ میں مزدور کی حالت سب سے بہتر ہے۔
ایک ہزار عمومی تنخواہ سوپچاس کم یا زیادہ، پاکستانی کرنسی میں  ایک کو ایک سو پندرہ  سے ضرب دے لیں۔  ایک یورو برابر 115 روپئے۔
اس  ایک ہزار میں سے 
 450 گھر کا کرایہ
100 مختلف یوٹیلیٹی بلز
200 کھانے  کا خرچہ
50  کپڑے جوتے اور دیگر لوازمات
باقی دوسو بچے تو وہ گاڑی کی قسط اور پیٹرول کا خرچہ، یا پھر 100 کا بس کا مہینہ بھر کا پاس۔
آپ ہی بتاؤ۔ گاڑی اسکو چاہئے کہ کام پر وقت سے پہنچ سکے۔
گھر اسکےلئے صرف سونے کی ایک جگہ ہے۔
بجلی گیس پانی  چاہئے۔
کھانا واجبی سا کھانا ہی ہے۔
آج بھی مزدور مالک کے سامنے اونچی بات نہیں کرسکتا، اسکو دیکھ کر سلام کرتا ہے اور نظر جھکا کر بات کرتا ہے۔ 
اسکے سامنے اپنی رائے نہیں رکھ سکتا۔ 
مجھے یاد ہے ہم اپنے مرغی خانے میں ملازموں کی تنخواہ  "فیڈ  کے خالی توڑے" بیچ کے دیتے تھے۔ یا پھر مرغیوں کی بیٹوں والا برادہ بیچ کر۔ 
کیا یہ سب رومن کے زمانے کے مزدوروں والے حالات نہیں؟؟؟؟ آپ ہی بتاؤ؟؟




مکمل تحریر  »

سوموار, اپریل 24, 2017

وعدہ خلافی ہمارا عمومی رویہ ہے


ڈاکٹر سلیم الموید میرے دوست ہیں کولیگ بھی، وہ فیملی ڈاکٹر ہیں اور میں اس پولی کلینک کا ہومیوپیتھ۔ ۔ دوست اسلئے کہ وہ فلسطین سے ہیں اور میں پاکستان سے۔ ہمارے بیچ اسلام علیکم کا رشتہ ہے جو ہم دنوں کو فوراُ قریب کردیتا ہے۔ میری ان سے ملاقات اکثر کام کے دوران ہی ہوتی ہے، کبھی کبھار باہر اتفاقیہ ملاقات ہوگئی۔ یا وھاٹس اپ پر کوئ چٹکلہ شئر کردیا۔ شاید گزشتہ دو برس سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ہم۔
پرسوں مجھے وھاٹس اپ میسج آیا "کب فون کرسکتا ہوں؟" میں نے جواباُ کال کی۔
کہنے لگے "تمھاری ضرورت ہے۔ کلینک سے باہر کسی جگہ پر ملنا چاہتا ہوں"۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ابھی تو میں شہر سے باہر ہوں۔ میں کل واپس آؤں گا اور آپ کو فون کروں گا اور طے کرلیں گے کہ کہاں اور کب ملاقات ہوسکتی ہے۔
آج دن کو کال کی۔ کہنے لگے میں اولڈ ھوم سے چاربجے فارغ ہونگا، تو ملتے ہیں۔ ادھر "سابلون کیفے" میں۔ چلو ٹھیک ہے۔
میں چاربجے وہاں پہنچا تو نہیں تھے۔ فوراُ کال آگئی،"ایک مریض کی طبیعیت اچانک خراب ہوجانے کی وجہ سے ابھی نکلا ہوں۔ دیکھ لو اگر انتظار کرسکتے ہو تو دس منٹ میں پہنچتا ہوں"۔ میں نے کہا : "کوئ بات  نہیں آجاؤ"۔
دس منٹ بعد ہم کافی کا آرڈر دے رہے تھے اورایک کیس ڈسکس کررہے تھے۔


الف میرے شہر کے ہیں اور پاکستان میں بقول انکے میرے شاگرد بھی رہے۔ یہاں اٹلی میں شروع میں جب آئے تو انکو ساتھ جاب پر بھی لگوایا اور گھر میں بھی رکھا۔ ہم لوگ اپارٹمنٹ شئرنگ میں شاید کچھ برس اکٹھے رہے۔ کھانا پینا، کام کاچ سب ایک ساتھ۔
پھر وہ ایک دوسرے شہر شفٹ ہوگئے اور میں ایک اور شہر میں۔
کبھی کبھار رابطہ ہوجاتا۔
گزشتہ ہفتے انکا فون آیا۔ کہنے لگے کبھی چکرلگاؤ، میں نے بتایا کہ میرا ویک اینڈ پر کورس ہے، فلاں جگہ پر، رات کو میں نے ادھر ہی ٹھہرنا ہے ہوٹل میں۔ یا تو ہفتہ کی شام کو ملاقات ہوسکتی ہے فراغت سے یا پھر دوپہر کو کھانے کے وقفہ کےلئے ڈیڑھ گھنٹے کےلئے۔
کہنے لگے واہ جی واہ وہ تو مجھ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ بس ٹھیک ہے میں شام کو آپ کو پک کرلوں گا۔ ملاقات ہوگی۔
چلو ٹھیک ہے، میں رابطہ کرلوں گا۔
گزشتہ ویک اینڈ پر میں اس شہر میں کورس پر تھا۔
حسب وعدہ میں نے انکو وھاٹس اپ کردیا کہ جناب میں پہنچ گیا ہوں۔


شام کو انکا فون آیا کہ میں آج مصروف ہوں کل شام کو، عرض کیا کہ کل تو میری واپسی ہے۔ اچھا دوپہر کو کیا پروگرام ہے؟
دوپہر کو ڈیڑھ سے تین بجے تک فری ہوں۔ چلو ٹھیک ہے، میں ڈیڑھ بجے ادھر ہوٹل ہونگا۔ بس ٹھیک ہے۔
میں نے ڈیڑھ بجے فون کیا تو، ایک بچے نے اٹھایا۔ آپ کون ہیں؟؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟؟ اپنا تعارف کرویا تو اس نے فون اپنی ماں کو تھمادیا، وہ فرمانے لگیں کہ "وہ" تو گھر نہیں ہیں اور فون بھی گھر چھوڑ گئے ہیں۔
میں نے "چلو ٹھیک ہے" کہہ کر فون بند کیا اور اپنے کھانے کی میز کی طرف چلا گیا۔
پھر انکی طرف سے کوئی رابطہ نہیں۔ شاید ابھی تک گھر ہی نہ پہنچے ہوں۔

 یا پھر  "وڑے" کہہ کر فون بچے کو تھما دیا ہوگا۔  کہ کہہ دو "ابا گھر پے نہیں ہے۔ بچہ شاید بات سنبھال نہیں سکا اور اماں کو پکڑا دیا ہوگا فون۔ 
اور میں کل سے سوچ رہا ہوں، کچھ بھی ہوجاوے ہم پاکستانیوں کی عادتیں نہیں بدلیں، وقت کی پابندی نہ کرنا اور وعدہ خلافی ہمارا  عمومی مزاج ہے۔ 






مکمل تحریر  »

جمعہ, فروری 17, 2017

رب ہے

ملحدوں کےلئے۔۔۔۔۔۔۔
شکم مادر میں دو جڑواں بچے تھے ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے: تم بعد از پیدائش حیات پر یقین رکھتے ہو؟؟
دوسرا جواب دیتا ہے: "یقیناُ، کچھ تو ہوگا پیدائش کے بعد۔ شاید ہم یہاں تیار ہورہے ہیں اس دوسری حیات کےلئے۔ جو بعد میں آوے گی"۔     " ایک دم بکواس" پہلا کہتا ہے۔ "بعد از پیدائش کوئی حیات نہیں ہے۔ کس طرح کی زندگی ہوسکتی ہے وہ   والی؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " مجھے نہیں معلوم، مگر یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی، شاید ہم چل بھی سکیں گے اپنی ٹانگوں کے ساتھ اور اپنے منہ کے ساتھ کھا بھی سکیں۔ شاید ہماری اور حسیں بھی ہوں جو ہم اب نہیں سمجھ پا رہے"۔
پہلا اعتراض کرتا ہے: "یہ تو بلکل ہی بونگی ہے۔ چلنا ناممکن ہے۔ اور منہ کے ساتھ کھانا؟ ذلالت۔ ناف کے ذریعے ہمیں سب مل تو رہا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔۔۔ اور پھریہ ناف  بہت چھوٹی ہے۔ بعد از پیدائش حیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
دوسرا مسلسل اپنی بات پر اڑا رہتا ہے: بہرحال، مجھے یقین ہے کہ کچھ تو ہے اور شاید جو یہاں ہے اس سے مختلف ہو۔ شاید لوگوں کو اس ناف کی ضرورت ہی  نہ ہوتی ہو"۔
پہلا پھر سے اعتراض کرتا ہے: "سب بکواس، اور باوجودیکہ، بلفرض اگر کوئی حیات بعد از پیدائش ہے، تو پھر ادھر سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟؟ پیدائش حیات کا اختتام ہے اور بعد از پیدائش کچھ بھی نہیں ہے سوائے غیرشفافیت، خاموشی اور فراموشی کے۔ پیدائش ہمیں کسی طرف نہیں لے کے جائے گی"۔
"اہو، مجھے یہ تو نہیں معلوم" دوسرا کہتا ہے "لیکن یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی، ہمارا خیال رکھے گی"۔
پہلا گویا ہوتا ہے: "ماں؟" تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  اہو، یہ تو بکواس ہے بلکل ہی، اگر ماں بلفرض ہے، تو پھر، اس وقت کہاں ہے؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " وہ ہمارے ارد گرد ہے۔ ہم اسکے حصار میں ہیں۔ ہم اسکے اندر ہیں۔ اور اسکی وجہ سے ہی تو زندہ ہیں۔ اسکے بغیر تو اس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسکی بقا ممکن ہے"۔
پہلا جواب دیتا ہے: توپھر، میں تو اسےنہیں   دیکھ  سکتا،  پس ثابت ہوا کہ ، اصولی طور پر اسکا کوئی وجود نہیں ہے"۔
اور پھر دوسرا  گویا ہوتا ہے: " کبھی کبار، جب خاموشی ہوتی ہے،   اگر سچی میں سننے کی کوشش کرو تو، اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے اور اسکی آواز وہاںاوپر سے سنی جاسکتی ہے"۔
اس طور پر ایک ہنگارین لکھاری سمجھاتا ہے کہ "رب" ہے۔






مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 19, 2016

گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔

بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر 
یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔

لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
 پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔

میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔


کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔


آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔

میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔

میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا: 
تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 

اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟
کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔

چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی


مکمل تحریر  »

جمعہ, نومبر 18, 2016

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:


ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد 
اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک
ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

 
کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست
کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-

"
ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی
دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”

Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, جون 23, 2016

شہید، مقتول اور فسادات

اگرکوئی گھر سے نکلے مزدورکرنے، بچوں کےلئے کھانے کا سامان لینے، بہن کےلئے کپڑے لینے یا کسی دوست سے ملنے۔ اسکول جانے، مسجد نماز کےلئے جانے یا کسی بھی اور کام سے جو اسکی ذات سے متعلق ہے اور کسی دوسرے سے اسکا کوئی مطلب مقصد نہ ہو۔ ایسے کو راہ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکو شہادت کہا جائے گا، کہ حادثاتی موت مرنے والا شہید ہے اور اللہ اسکو اسکا اجر دے گا۔ ہم انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ کہ "چنگا وائی جو اللہ دی مرضی"۔


اور اسکے برعکس اسکو کوئی شخص جان کر اور پلاننگ کرکے اسکو "ٹھوک" دے، دو گولیاں۔ تو یہ قتل ہے، بلکہ اسکو قتل عمد کہا جائے گا۔ ایسا ہی دنیا کے ہرقانون میں ہے اور اسلامی شریعت میں بھی ایسا ہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی قتل کا لفظ استعمال ہوا جبکہ مقتول اور قاتل کے الفاظ بھی ہیں اور اسکا بدلہ قتل مقررہ ہوا، یا پھر قصاص و دیت یا پھر معافی۔ بلترتیب۔


اور اگر یہ قتل کسی "پبلک پلیس" پر ہوا، جس میں زیادہ لوگ ملوث ہوں یا جس سے زیادہ لوگ متاثر و خوفزدہ ہوں تو اسکو " دہشت گردی " کہا جائے گا۔ قرآن میں فساد اور فتنہ  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ایسا کرنے والے کےلئے  "فسادی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں دیت معافی کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ بلکہ "ملٹری کورٹس" میں فوری مقدمہ چلایا جاتا ہے اورمجرمین کو براہ راست" ٹھونک" دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

کتاب  اللہ میں فساد  پھیلانے اور فساد کی روک تھام کےلئے بہت ہی سختی کی  گئی ہے۔ قرآن مجید میں کل گیارہ مقامات پر فساد کا بیا ن آیا  ہے۔ 

فساد کا پہلا ذکر سورہ بقرہ میں ملتا ہے۔ 

( 204 )   اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
( 205 )   اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
( 206 )   اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

  سورہ المائدہ میں بیان ہوتا ہے۔ 
( 32 )   اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

اور اگلی آیت مبارکہ میں ایسوں کی سزا مقرر کردی جاتی ہے۔ اور وہ بھی وہی سزا جو خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کرنے والوں کی ہے ۔ 

( 33 )   جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے


امجد صابری قتل کیس میں پوری قوم متاثر ہوئی، اسکو دھشت گردی قرار دیا جائے گا۔ مرنے والا مقتول ہے جو اسکی مظلومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاتلوں کے پکڑنے اور سزا پانے تک ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسے ہیں ہم عوام کو بھی یہ جھگڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ وہ شہید تھا کہ نہیں تھا۔


یاد رہے، ہر مرنے والا شہید نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت خالد ابن ولید، سیف اللہ کا لقب پانے والے رسول اللہ ﷺ سے اپنے آخری وقت میں شہادت کےلئے رو نہ رہے ہوتے۔




مکمل تحریر  »

ہفتہ, جون 18, 2016

بارسیلونہ، روم اور راولپنڈی

اکتوبر میں بارسلونہ فارماسیوٹیکل ایکسپو میں  جانے کا پرو گرام ہے، ایسے ہی آج صبح دیکھ رہا تھا کہ ادھر ائیرپورٹ سے ایکسپو اور پھر شہر کا کیا نظام ہے ٹرانسپورٹ کا۔ اچھی ویب  سائیٹ ہے جوہمیں بہت سی معلومات دیتی ہے۔  اگر بارسیلونہ میٹرو کی تفصیل میں جایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ 1920 میں بنی تھی، اسکی گیارہ لائینں ہیں  113 کلومیٹر لمبائی ہے اور 148 اسٹیشنز ہیں۔ ایسے ہیں جیسے جہلم سے اسلام آباد کوئی جائے۔ 

مطلب یہ سب کچھ آج سے  صدی قبل، چار برس باقی ہیں  2020 آنے میں، ہمارے ہاں شاید تب تک کوئی سب وے میٹرو ٹرین  ایک لائین کی ہی بن ہی جائے۔ اللہ کرے۔ 


ہمارے ہاں اسکے جواب میں ایک بس سروس شروع ہوئی جسکو میٹرو بس کہا گیا، اور یار لوگ اس پر بھی احتجاج کرتے ہیں کہ جنگلا بس چلا دی ہے۔ آہو ہو ہو، چنگچی والے غریبون کا کیا ہوگا۔ مگر نہیں سوچتے کہ دریا پر  پُل بنانے سے کشتی بانو ں کا بھی رزق جاتا ہے، تو پھر پُل بھی نہ بنایا جائے؟؟  خیر یہ سب تو پوری دنیا میں ہی چلتا ہے۔  
شاید بارسلونہ میٹرو کے بارے بھی ایسے ہی ہوتارہا ہوگا، کچھ نعرے بازی تو ہوتی ہی ہے۔

چین جاپان اور فرانس میں تیز رفتار ٹرینیں چلانے کا مقابلہ ہے، اٹلی میں بھی چلارہے ہیں، کچھ برس سے پراجیکٹ پر کام ہورہا ، نئی  ریلوے لائنیں بچھ رہی ہیں اور نئے پل بھی بن رہے ہیں۔  اور جگہ جگہ no tavکے سلوگن  بھی لکھے ہوتے ہیں، مطلب ادھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کے میگا پراجکیٹس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

میں اٹلی کے شمال میں رہتا ہوں اور مجھے پاسپورٹ کی تجدید کےلئے روم پاکستان ایبمیسی میں جانا ہوتا ہے ۔ روم یہاں سے تقریبا چھ سو کلومیٹر ہے ، پہلے اسکےلئے تین طریقے اختیار کئے گئے ہیں ، مختلف اوقات میں۔ 

  ایک بعذریہ نائیٹ ٹرین، مطلب رات کو نو بجے ٹرین پکڑی، گیارہ بجے ویرونا سے بدلی کی اور پھر صبح پونے سات بجے، روم تیرمینی اسٹیشن پر جا منہہ دھویا۔ اور وہاں سے دو بسیں بدلی کرکے پاکستان ایمبیسی پہنچے۔پاسپورت تو رینیو وہوگیا  پر دوراتوں  کا جاگراتا اور سفر کی طوالت اگلے دو دن کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔

دوسرا طریقہ ہوائی جہاز کا سفر ہے تھا، بظاہر سستا محسوس ہوا، کہ یہ ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے، چلوجی، مگر یہ کیا، چالیس منٹ پر ائیرپورٹ ہے، لوکل فلائیٹ ہے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا کافی ہے مگر کسی غیرمتوقع ٹریفک بلاک میں پھنسنے کی صورت میں دوگھنٹے کا وقت لے کر نکلنا مناسب ہے۔صبح سات  بجے کی فلائیٹ تھی، بس تین بجے اٹھ کھڑے ہوئے، چاربجے گھر سے نکلے اور پانچ بجے  ائیر پورٹ پر پہنچ کر گاڑی پارکنگ میں چھوڑی اور انکو 12 یورو یومیہ کے حساب سے پیسے دے کر جہاز پکڑنے نکلے۔ اب ادھر دو گھنٹے "میں جہاج نوں اڈیکاں"  پھر روم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ائیرپورٹ سے تیرمینی  ریلواسٹیشن تک پہنچنے کےلئے شٹل بس ہے جو ایک گھنٹہ لیتی ہے اور اسکو چلنے میں مذیدادھ گھنٹہ ہے۔ یوں صبح 5 بجے کے گھر سے نکلے ہوئے گیارہ بجے روم اسٹیشن پر پہنچے اور وہاں سے ایمبیسی کو فون کرنا پڑا کہ جنابو لیٹ آویں گے، بھلے مانس تھے کہنے لگے آجاؤ، گیٹ بند ہوا تو فون کردینا کھولوا دیں گے۔ یہی کرنا پڑا۔ اسکے بعد حساب لگایا تو ہمارے پاس کل تین گھنٹے تھے، پاسپورٹ آفیسر کو عرض کیا کہ جناب 7 بجے کی واپسی  فلائیٹ ہے۔ کمال شفقت سے فرمانے لگے، اہو، اچھا کوئی کوئی بات نہیں، آپ کو جلدی فارغ کردیں گے۔ واقعی ہم سب اہل خانہ ایک گھنٹہ بعد فارغ تھے۔ وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور ریلوے اسٹیشن اور پونے چار بجے والی بس پکڑ کے پونے پانچ بجے ائیرپورٹ موجود تھے، اس دوران ہمارے پاس وقت صرف ایک سینڈویچ کھانے کا تھا، پون گھنٹہ،  پھر ائیرپورٹ پر پہنچ کر فلائیٹ کا انتطار اور رات کو جب گھر پہہنچے تو تھکن سے چور تھے، دوسرے دن سب کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ اسٹریس اور تھکن کی وجہ سے۔بس اس سے توبہ ہماری۔ 

تیسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ گاڑی پر چلتے ہیں، ایک دوست ڈاکٹر سمیر صاحب ہیں، ان سے بات ہوئی کہنے لگے میرا بھی کام ہے، اچھا جی دو اور پکڑو تاکہ خرچہ فی کس تقسیم ہوکر کم ہوجائے۔ اب کے 6گھنٹوں کا سفر ایک طرف کا کرنا تھا، مطلب نوبجے ایمبیسی پہنچنے کےلئے، صبح تین بجے، روانگی، بس جی ہمہ یاراں جنت ہمہ یاراں بہشت۔ وہی نو بجے ایمبیسی پہنچے، بارہ بجے فارغ ہوئے، دو گھنٹے کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کی راہ لی، عشاءکے وقت گھر پہنچے، کمر تختہ ہوگئی تھی بیٹھ بیٹھ کر، ڈاکٹرسمیر صاحب کی ہمت جو اتنی طویل ڈرائیونگ کرگئے۔ خیر اتنا برا بھی نہیں۔ 

اس بار پھر جانا ہوا تو تیز رفتار ٹرین کا علم ہوا،  یہ نئی نئی سروس ہے اڑھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ میں نے پھر ڈاکڑسمیر صاحب سے بات کی تو وہ بھی تیار تھے، ویلنٹائن ڈے پر آفر لگی ہوئی تھی کہ ایک ٹکٹ میں دو بندے سفر کرسکتے ہیں۔ بس ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا ویلنٹائن مانا اور چڑھ گئے ٹرین پر، صبح پونے سات بجے کی ٹرین تھی اور ساڑے نو بجے ہم روما تیرمینی اسٹیشن پر تھے، مزے سے ایمبیسی پہنچے ایک بجے فارغ ہوئے اور اب ہمارے پاس رات کو نو بجے تک وقت
تھا، بس پھر میٹرو اور ہم بلکہ پیدلو پیدلی، روم کلوسیو۔ پیاسا ہسپانیہ، پیاسا تریوی۔ پیاسا وینیزیا اور ویتوریانو (اس بارے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، اگر نہیں تو یہاں کلک کرکے پڑھ لیں)۔ سے ہوتے ہوئے پھر سے میٹرو پکڑ کر ویتی کن سٹی پہنچے، پاپائے روم کی زیارت تو نہ ہوسکتی پر چلو۔
مزے سے رات نو بجے ٹرین پکڑی اور ساڑے گیارہ بجے گھر تھے۔

نہ کھجل خراب ہوئے نہ بے خوابی اور نہ ہی تھکن، بلکہ بہت خوش بھی تھے، کہ جنابو اس بار پھر روم کی اچھی سیر ہوگئی، کچھ پرانی دیکھی ہوئی چیزیں کچھ نئیں دیکھ لیں۔ گویا تیز رفتار سفر کے ذرائع ایک عمدہ سہولت ہیں۔

مجھے لاہور میں زیادہ جانے کا موقع نہیں ملا مگر راولپنڈی تو اپنا دوسرا گھر ہی سمجھو۔ موتی محل سے اسلام آباد جانا کوئ خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ تین سے چار گھنٹے اور وہ بھی ہائی ایس میں بندہ کبھا ہوجاتا تھا۔ اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ سفر آسان بھی ہوگیا ہے  اور کم وقت میں بندہ اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ رزائع رسل و رسائل قوموں اور ملکوں کی ترقی میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں، جتنے ڈیم اور اسکول، میں تو اس رائے پر ہوں کہ جو لوگ، ذرائع آمدورفت اور ڈیموں کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں۔ ہاں اسکول ہسپتال اور دیگر ضروریات پر حکمرانوں کو ضرورت کھینچ تان کیجئے، مگر یہ مت کہیں کہ میٹرو بس اور سرکلر ریلوے کیوں اور ہسپتال کیوں نہیں۔


یہ کہئے کہ انڈرگرائونڈ بھی چلاؤ اور ہسپتال بھی اور اسکول بھی،  کھیل کے گرائونڈ بھی اورتفریحی پارک بھی۔ انصاف کی عدم فراہمی پر شور کرنے کی ضرورت ہے، رشوت اور قربا پروری  کی طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ صفائی اور پینے کے پانی پر کھپ ڈالیں، اور جو کچھ آپ کے دماغ شریف میں آتا ہے اس پر بھی ۔ 



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش